مشکلات کے باوجود، پاکستان میں ای کامرس کاروبار ترقی کی راہ پر

View previous topic View next topic Go down

GMT + 3 Hours مشکلات کے باوجود، پاکستان میں ای کامرس کاروبار ترقی کی راہ پر

Post by plhr60 on Sun Apr 28, 2013 12:54 pm

پاکستان میں ای کامرس کاروبار میں اضافے کا رجحان ہے۔سخت معاشی حالات اور ٹیکنالوجیکل رکاوٹوں کے با وجود کچھ پر عزم افراد اب بھی موجود ہیں جو اپنی انتھک محنت کے ذریعے پاکستان میں ای کامرس کاروبار کو اگلے مرحلے تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ shophive.com کے بانی ارسلان نذیر بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں اورگزشتہ آٹھ سالوں سے ای کامرس بزنس سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے اپنے کاروبار کو بالکل صفر سے شروع کیا تھا۔ہمیں ارسلان سے بات کرنے اور شاپ ہائیو کے ساتھ ان کے سفر کے بارے میں جاننے کا موقع ملا، آپ بھی ملاحظہ کیجیے:

پروپاکستانی: ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیے؟

ارسلان نذیر: میں لاہور میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نے یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب سے ایم بی اے کیااور پھر مارکیٹنگ میں ایم ایس سی کے لیے ناٹنگھم یونیورسٹی چلا گیا۔ 2001ء میں پاکستان واپس آیا اور ‘پورٹل 47′ نامی اپناایک گیم کیفے شروع کیا۔ وہ بہت کامیاب رہا، لہٰذا میں نے فائٹ کلب کے نام سے ایک اور کیفے کھول لیا۔

پروپاکستانی: آپ نے شاپ ہائیو ڈاٹ کام شروع کرنے کا فیصلہ کب کیا اور کیوں؟

ارسلان نذیر: میں نے 2005ء میں اپنے دونوں کیفے بیچنے کے بعد پراپرٹی اور اسٹاکس میں پیسہ لگانا شروع کیا یہاں تک کے 2005-06ء میں مارکیٹ (کے ایس ای) بد حالی کا شکار ہو گئی۔ اس کے بعد میرے پاس ماسوائے ایک لیپ ٹاپ اور سوزوکی پک اپ کے کچھ نہ بچا، لہٰذا میں نے اپنے ایک دوست کو آن لائن اسٹور شروع کرنے کی تجویز دی جس نے میرے لیے ویب سائٹ بنائی۔ مگر میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہ تھا اس لیے میں نےاسے 20 فیصد شیئرز کا حصہ دار بنایا اور 20 فیصد شیئرز ویب سائٹ کے ایک اور ڈیزائنر کو دیے۔

ہمارے ابتدائی دو سال مشکلات اور نقصانات کی نذر ہو ئے جس کے بعد میرے دونوں پارٹنر مجھ سے الگ ہو گئے۔ میں نے اپنے 40 فیصد شیئرز واپس خریدے اور ویب سائٹ کا واحد مالک بن گیا۔ ان دو سالوں کے بعد میرے کاروبار نے اٹھان پکڑی اور اس دن سے اب تک اس میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوئی ۔ میں نے بغیر کسی آفس کے اپنے گھر سے کام کا آغاز کیا اور صرف ایک ڈیلیوری کرنے اور ایک مواد اپلوڈ کرنے والالڑکا ہوا کرتا تھا۔

پرو پاکستانی: ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں ایسا کوئی کاروبارنہیں تھا، کس چیز نے آپ کی حوصلہ افزائی کی؟

ارسلان نذیر: اس وقت میرے پاس کام کا آغاز کرنے کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں تھا اور مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ کیا کرنا ہے۔ میرے پاس صرف ایک لیپ ٹاپ تھا اور کچھ کر دکھانے کی تڑپ۔ اس وقت میرے ذہن میں ایک “آن لائن کیٹلاگ” شروع کرنے کا ارادہ تھا جہاں پر لوگ آن لائن آرڈر کر کے اپنے گھر پر چیزیں وصول کر سکیں۔

میں نے اس سےپہلے کبھی آن لائن شاپنگ نہیں کی تھی اور نہ ہی باقی دنیا میں موجود ای-کامرس کے نمبرز کا مجھے کچھ علم تھا، مگر یہ بات مجھےمعقول معلوم ہوئی کہ آن لائن ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے کہ لوگ مارکیٹ جانے کے بجائے وہیں سے آن لائن چیزیں دیکھ کر آرڈر کر یں اور گھر پہ ڈیلیوری حاصل کر سکیں۔ “مجھے اس طرف مائل کرنے کی ایک ہی چیز تھی کہ میرے پاس ایک پھوٹی کوڑی نہیں تھی اور مجھے کرنے کے لیے یہ کام سب سے آسان معلوم ہوا۔”

پرو پاکستانی: اس وقت کس چیز نے آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ ایک قابل عمل خیال ہے؟

ارسلان نذیر: اس دوران میرے پاس پاکستان میں انٹر نیٹ کی ترقی کے حوالے سے اعداد و شمار موجود تھےاور مجھے معلوم تھا کہ اس رجحان مین اضافہ ہو گا۔ “یہ بات بالکل صاف تھی کہ ہم بہت جلد آن لائن سب کچھ کر رہے ہوں گے اور اس وقت ٹیکنا لوجی ترقی کر رہی تھی۔”

چونکہ میرا ارادہ ٹیک مصنوعات بیچنے کا تھا تو میں نے سوچا کہ اسے لوگوں کے لیے قابل استعمال ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی ریٹیل آؤٹ لیٹ یا کیٹلاگ کی مدد کے بغیر میرا اپنا کیٹلاگ انٹرنیٹ پر دیکھ سکیں اور آن لائن خریداری کر سکیں۔

پرو پاکستانی: کیا آپ مستقبل میں اس کو بڑھتاہوا دیکھ رہے ہیں؟ ترقی کے لیے پاکستانی منڈی میں کیا چیز تبدیل ہونے کی ضرورت ہے؟

ارسلان نذیر: ترقی کرنے کے لیے ظاہر ہے ہمیں “پے مینٹ سلوشن” کی ضرورت ہے۔ ہمیں بہتر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اچھی کوریئر کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، مثلاً امریکہ میں آپ ڈیجیٹلی ڈیلیوری وصول کر سکتے ہیں اور وہ وہیں اور اسی وقت رجسٹر کی جاتی ہے۔

پھر ہمیں ویب سائٹ کا معیار بہتر بنانا ہوگا، جس کی یہاں زیادہ ضرورت ہے۔اور پھر کاروبار کا مستند ہونا، ہمارے ہاں ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جو مصنوعات کے حساب سے ویب سائٹس کی تصدیق کر سکے کیونکہ بہت سی سائٹس چینی نقلیں وغیرہ بیچ رہی ہیں۔ اور صرف ایک برا تجربہ لوگوں کو آن لائن شاپنگ سے دور لے جاتا ہے۔

پروپاکستانی: کیا آپ ہمیں پاکستان میں ای کامرس کے مارکیٹ شیئر اور شرح نمو کے بارے میں کچھ بتائیں گے؟

ارسلان نذیر: ای-ٹیلنگ کی مارکیٹ تقریباً 20 سے25 فیصد ہے۔

پرو پاکستانی: پاکستان میں شاپ ہائیو ڈاٹ کام کا مارکیٹ شیئر کتنا ہے؟

ارسلان نذیر: شاپ ہائیو کے مارکیٹ شیئر کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ یہاں تصدیق کرنے والا کوئی ادارہ نہیں۔ اگر ہمارے پاس آن لائن ادائیگی کا نظام ہوتا تو شاید اس بارےمیں کچھ کہا جا سکتا تھا مگر اس کی غیر موجودگی میں کچھ کہنا تقریباً نا ممکن ہے۔

پرو پاکستانی: پاکستان میں ای-ٹیلنگ انڈسٹری کو کن مسائل کا سامنا ہے؟ مثلاًEbay.com پر پیسوں کی منتقلی کا تسلیم شدہ طریقہ کار پے پال پاکستان میں موجود نہیں۔ ان مسائل کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

ارسلان نذیر: ہمارا قومی مسئلہ دہشت گردی، بد عنوانی اور وسائل کا فقدان ہے۔ اگر پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہو گی تو پے پال سمیت دیگر غیر ملکی سرمایہ کار یہاں ضرور آئیں گے۔ اس لیے میرے خیال میں یہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔

پرو پاکستانی: شاپ ہائیو ڈاٹ کام نے ایسی کیا بات متعارف کرائی ہے جس کے باعث یہ سالہا سال سے قائم ہے؟

ارسلان نذیر: آن لائن شاپنگ ایک بہت تیزی سے چلتاہوا کاروبار ہے ، اگر آپ کے پاس صحیح ڈیولپرز موجود ہیں تو آپ ایک دن میں ایمیزن کھڑی کر سکتے ہیں، تو فیچرز کے لحاظ سے شاپ ہائیو میں ایسی کوئی خاص بات نہیں۔

ہماری یو ایس پی(یونیک سیلنگ پروپوزیشن) یہ ہے کہ ہم کم قیمت میں معیاری چیزیں فروخت کرتے ہیں اور ہم پرانی چیزوں کو نیا کر کے یا نقلیں فروخت نہیں کرتے۔ہم اپنے صارفین کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ طویل بنیادوں پر رشتہ استوار ہو۔ ہم بعد از فروخت سروس مہیا کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

پرو پاکستانی: آپ انٹرنیٹ پر فروخت بڑھانے کے لیے کن ٹولز کا استعمال کرتے ہیں؟ کس طرح آپ کا کاروبار منا فع بخش ہے؟

ارسلان نذیر: ہم سوشل میڈیااور گوگل ایڈز کا بھر پور استعمال کرتے ہیں اور اپنے با قاعدہ صارفین کو نیوز لیٹرز فراہم کرتے ہیں۔

پرو پاکستانی: کیا آپ پاکستان میں انٹر نیٹ کی نمو اور رابطے کی صورت حال سے مطمئن ہیں اور یہ کیسے ریٹیلنگ پر اثر انداز ہو رہا ہے؟

ارسلان نذیر: جی ہاں، میرے خیال میں انٹرنیٹ نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سہرا پی ٹی سی ایل کے سر جاتا ہے، جس طرح وہ اپنی سروس دیتے ہیں اورجیسے انہوں نے انٹرنیٹ کی ہر خاص و عام تک رسائی میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر ساتھ ہی میں یہ کہوں گا بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے اور ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

پرو پاکستانی: اور اب آخری سوال۔ یہ بات عام ہے کہ لوگ آن لائن خریداری کے لیے تیار نہیں۔ وہ اسکیمیں جو دیگر ممالک میں رائج ہیں اور مشہور بھی ہیں، پاکستان میں ابھی عام ہو رہی ہیں اور خریداروں کا ان پر اعتماد کچھ زیادہ نہیں۔ آپ پاکستان میں ای کامرس کا مستقبل کس طرح دیکھتے ہیں؟

ارسلان نذیر: ای کامرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ پھیلتی رہے گی، مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر آپ کا ملک کس طرف جا رہا ہے اور ملکی معیشت کی کیا حالت ہے؛ کیونکہ اگر معیشت ہی سست روی کا شکار ہو گی تو خریدار بھی کم ہوں گے۔ ہمیں غیر ملکی سرمایہ کاری اور انفرااسٹرکچر کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے، مگر بات وہی ہے یہ چیز ملکی سطح پر ہو گی اور صرف ریٹیل پر ہی اثر انداز نہیں ہو گی۔ مشکلات کے باوجود یہاں بہت کچھ ہوا ہے اور مجھے مزید بہتری کی امید ہے۔
avatar
plhr60
Monstars
Monstars

Aquarius Horse
Posts : 536
Join date : 2011-10-20
Age : 27
--Mood-- : Drunk

Character sheet
Experience:
33/500  (33/500)

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum